کاروار:26؍اگست (ایس اؤ نیوز)انشی گھاٹ پر قریب ایک مہینے سے ٹنوں مٹی پڑی رہنے اور ٹکنکل رپورٹ، ماہرین کا معائنہ، بہتر منصوبے کی تشکیل کے بہانے محکمہ آب پاشی کی دیری پر اترکنڑا ضلع ڈی سی نے بھی بیزارگی ظاہر کی ہے ۔ البتہ ٹنو ں مٹی سے بھری سڑک کو عوام نے خود ہی پاک صاف کرتے ہوئے سواریوں کی آمدو رفت کے لئے کھول دینے سے چھوٹی سواریوں کے گزرنے کا منظر دیکھاگیا۔ خیال ظاہر کیا جارہاہے کہ اگر بارش نہیں ہوئی تو فی الوقت سواریوں کے لئے کوئی دشواری نہیں ہوگی۔
محکمہ آب پاشی کا کہنا تھا کہ انشی گھاٹ پر پہاڑ کھسکنے سے سڑک پر پہاڑ کی مانند پڑی مٹی کو نکال باہر کرنےکے لئے کافی اخراجات ہونگے ، اس کا مستقل حل نکالنے کے لئے ماہرین سے رپورٹ لی جائے گی ، عوام کا کہنا ہے کہ محکمہ کی طرف سے ایسے بہانے پیش کرنے کے بعد عوام نے خود ہی عوامی نمائندوں کی قیادت میں مشینوں کے ذریعے مٹی نکال باہر کرنے کا کام شروع کردیا۔
کاروار اور جوئیڈا کو جوڑنے والی انشی گھاٹ سڑک بند ہوجانے سے سواریوں کی آمد ورفت رک گئی تھی ، عوام کسی بھی کام کے لئے کاروار نہیں جاسکتے تھے۔ سڑک بند ہوگئی تھی تو عوام نے سمجھا کہ متعلقہ محکمہ عوامی تکالیف کے پیش نظر جلد ہی سڑک کی درستگی کرتے ہوئے عوام کےلئے راحت فراہم کریں گے۔ لیکن محکمہ بہانے بازی میں دن گزارنے لگاتو عوام خود ہی کام پر لگ گئے۔
انشی گھاٹ کا دورہ کرتے ہوئے اترکنڑا ضلع ڈی سی ملئی مہیلن نے کئے گئےکاموں کا معائنہ کیا اور ضلع پنچایت کے سابق ممبر رمیش نائک کی قیادت میں جوئیڈا کے عوام کی طرف سے سڑک کو صاف کرنےپر اُن کی ستائش کرتےہوئےکہاکہ عوام نے بہترین کام انجام دیاہے۔ ڈی سی ملئی مہیلن انشی گھاٹ کے ذریعے ہی جوئیڈا پہنچے تھے۔ اس دوران انشی گھاٹ پر جاری کاموں کا معائنہ کرنےکے بعد انہوں نے افسران سے بات چیت کی اور ہدایت دی کہ انہیں رپورٹ دی جائے کہ یہ سڑک بھاری سواریو ں کےلئے تیار ہے یا نہیں ۔
فی الحال انشی گھاٹ پرمٹی کو ہٹانے کا کام عوام اور انتظامیہ مشترکہ طورپرانجام دے رہے ہیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ملئی مہیلن نے بتایا کہ گھاٹ کی سڑک کے لئے مستقل حل نکالا جائے گا، انہوں نے کہا کہ بظاہر محکمہ آب پاشی کی غفلت محسوس ہورہی ہے اس سلسلےمیں وہ افسران سے گفتگو کریں گے۔ دی سی کے ساتھ ضلع پنچایت کی سی ای اؤ پریانگا ایم بھی موجود تھیں۔